کاروار:29/ دسمبر(ایس اؤنیوز)پریش میستا کی ہلاکت کے بعد برپا ہوئے فسادات میں ملوث افراد کو پولس نے گرفتارکیا ہے ، بی جےپی والے پولس والوں پر الزام لگارہے ہیں کہ پولس نے معصوموں کو گرفتار کررہی ہے، الزام تراشی کے بجائے بی جےپی والے کون معصوم ہیں ان کی فہرست تیارکرکے پیش کریں ، یوں ہی پولس پر الزام دھرنا صحیح نہیں ہے۔ توپھر کیا پولس کی طرف سے کی جانے والی قانونی کارروائی غلط ہے؟ اس معاملے میں اگر پولس غلط کی ہے تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی ، لیکن بی جے پی کی طرف سے خاطیوں کو گرفتار نہ کئے جانے کا مطالبہ کرنا کونسا انصاف ہے ؟ ۔ ان خیالات کااظہار ضلع نگراں کاروزیر آر وی دیش پانڈے نےکیا۔
ڈی سی دفتر میں اخبارنویسوں سے گفتگوکرتےہوئےوزیر موصوف نےکہاکہ حالیہ دنوں میں اترکنڑا ضلع میں ہوئے فسادات کی وجہ سے ضلع کو داغ لگاہے ، پولس سواری کونذرآتش کرنا، عمارتوں اور بسوں پر پتھراؤ کئے جانے سے ضلع میں بدامنی ہوئی جس کے سبب میرے نام پر بھی بٹہ لگاہے، کمٹہ جیسے شہر میں جس طرح کا فسادہوا ویسا کبھی نہیں دیکھاگیا تھا، جو بھی قانون کو ہاتھوں میں لیا ہے انہیں کسی حال میں نہیں بخشا جائے گا، البتہ معصوموں کو تکلیف نہیں دی جائے گی۔ اس موقع پر وزیر نے بی جےپی والوں پر تیکھا وار کرتے ہوئے کہاکہ اب بی جے پی والے معصوموں کے نام پر سیاسی گندگی پھیلارہے ہیں، اگر وہ اپنی جگہ صحیح ہیں تو معصوموں کی فہرست بناکر بولیں۔ پولس وڈیوکلپ کے ذریعے کارروائی کرے گی۔ پولس سواری کو آگ لگانے پر بھی خاموش رہیں گے؟کہتےہوئے ملزموں کے خلاف کارروائی کے سخت اشارے بھی دئیے۔
بھٹکل کے رام چندرنائک کے خاندان والوں کو ریاستی حکومت نے 2لاکھ روپئے منظور کئے ہیں، اس کو اداکیاجائے گا(اس تعلق سے ساحل آن لائن پر خبر شائع ہوئی ہے)واقعہ کے بعد میں خود رام چندرنائک کے گھر پہنچ کر انہیں دلاسہ دے کر آیاہوں۔ پریش میستا کے معاملے میں بھی حکومت اپنا کام کرے گی۔
بی جے پی والے افواہ پھیلا رہے ہیں کہ فسادات کے دوران پولس نے پتھراؤ کیا ہے ۔ اسی طرح ان کاالزام ہے کہ ہوناور کے کارگزار سرکل انسپکٹر ملزموں کے ساتھ شامل ہیں اور سرسی میں پولس نے پتھراؤ کیا ہے اگر الزام ثابت ہوتا ہے تو ان کے خلاف بھی کارروائی کرنے کی بات کہی۔ جو بھی خاطی ہے اس کے خلاف قانونی طورپر کارروائی کی جائے گی۔ بی جے پی والوں کاکہنا ہے کہ کچھ لوگ خوف زدہ ہیں، وزیر نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہاکہ جب آپ نے کوئی غلطی نہیں کی ہے تو پھر کس بات کا خوف؟ معصوموں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ، وہیں بی جےپی کہہ رہی ہے اب پولس کسی کو گرفتار نہ کرے ، وزیر نے سوال کیا کہ تو کیا خاطیو ں کو یوں ہی چھوڑدیں۔ پریس کانفرنس میں رکن اسمبلی ستیش سئیل ، ڈی سی سی سکریٹری کے شمبھوشٹی موجود تھے۔